صحافت کی طرف پہلا قدم
صحافتی سفر کا آغاز مقامی سطح پر عوامی مسائل کی رپورٹنگ سے ہوا۔ ابتدا ہی سے ان کا موضوع بڑے ایوان نہیں بلکہ عام آدمی کی روزمرہ کی مشکلات رہیں — گلی محلوں کے مسائل، بنیادی سہولیات کا فقدان اور سرکاری دفاتر میں شہریوں کی مشکلات۔
صدر، لالیاں پریس کلب — 15 برس سے شعبۂ میڈیا و صحافت سے وابستہ
ایک ایسا صحافی جس نے پندرہ برس کے طویل سفر میں دباؤ، دھمکیوں اور مشکلات کا سامنا کیا، مگر سچ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لالیاں شہر اور گردونواح کے عوام کے لیے ان کا قلم اور کیمرہ ہمیشہ عوامی مسائل کی آواز بنا رہا۔ یہ صفحہ ان کے صحافتی سفر، جدوجہد اور اصولوں کا تعارف ہے۔
تعارف
رانا اکرام اللہ گزشتہ 15 برس سے شعبۂ میڈیا و صحافت سے وابستہ ہیں اور لالیاں پریس کلب کے صدر کی حیثیت سے اپنی صحافتی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ طویل عرصے پر محیط میڈیا کے تجربے کے دوران انہوں نے لالیاں شہر اور گردونواح کے عوامی مسائل، اہم واقعات اور معاشرتی معاملات کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
ان کا صحافتی سفر کسی بڑے ادارے کی چھتری تلے نہیں بلکہ زمینی حقائق کے درمیان شروع ہوا۔ گلی محلوں کے مسائل، بند نالیاں، ٹوٹی سڑکیں، پانی کی قلت، ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان اور سرکاری دفاتر میں عام آدمی کی بے بسی — یہی وہ خبریں تھیں جنہیں انہوں نے سب سے پہلے اپنا موضوع بنایا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ان کی رپورٹنگ کا دائرہ لالیاں سے بڑھ کر قومی معاملات تک پھیلا، مگر ان کی ترجیح کبھی نہیں بدلی: عوام کی آواز بننا۔ آج لالیاں پریس کلب اور اس سے منسلک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ڈیلی سچ نیوز کے ذریعے وہ اسی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
”صحافی کا قلم عوام کی امانت ہے۔ دھمکیاں اور دباؤ آتے رہیں گے، مگر جس دن ہم نے سچ لکھنا چھوڑ دیا، اس دن عوام کی آواز بھی خاموش ہو جائے گی۔“
— رانا اکرام اللہ، صدر لالیاں پریس کلب
صحافتی سفر
ایک مقامی رپورٹر سے لالیاں پریس کلب کی قیادت تک — جدوجہد، استقامت اور عوامی خدمت کی داستان۔
صحافتی سفر کا آغاز مقامی سطح پر عوامی مسائل کی رپورٹنگ سے ہوا۔ ابتدا ہی سے ان کا موضوع بڑے ایوان نہیں بلکہ عام آدمی کی روزمرہ کی مشکلات رہیں — گلی محلوں کے مسائل، بنیادی سہولیات کا فقدان اور سرکاری دفاتر میں شہریوں کی مشکلات۔
برسوں کی مسلسل زمینی رپورٹنگ نے انہیں لالیاں کے عوام میں ایک قابلِ اعتماد نام بنا دیا۔ لوگ اپنی شکایات لے کر خود ان تک پہنچنے لگے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ان کی بات بغیر کسی ملاوٹ کے سامنے لائی جائے گی۔
سچ لکھنے کی قیمت چکانی پڑی۔ بااثر حلقوں کی جانب سے دباؤ آیا، دھمکیاں دی گئیں اور خاموش رہنے کے لیے مختلف طریقوں سے مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ خاندان کی فکر اور ذاتی نقصان کا خدشہ ہر وقت ساتھ رہا، مگر انہوں نے قلم روکنے سے انکار کر دیا۔
ہر آزمائش نے ان کے عزم کو مزید پختہ کیا۔ انہوں نے کسی مفاد، لالچ یا خوف کو اپنی صحافت پر حاوی نہیں ہونے دیا اور ہر مرحلے پر حقائق کے ساتھ کھڑے رہے۔ یہی استقامت آج ان کی پہچان ہے۔
ساتھی صحافیوں کے اعتماد کے ساتھ لالیاں پریس کلب کی قیادت سنبھالی اور اسے ایک منظم، عوام دوست صحافتی پلیٹ فارم کی شکل دی — جہاں سچی، بروقت اور ذمہ دارانہ خبر بنیادی ترجیح ہے۔
بدلتے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ڈیجیٹل میڈیا کا رخ کیا۔ ڈیلی سچ نیوز کے ذریعے آج لالیاں اور پاکستان بھر کی خبریں، عوامی مسائل اور اہم واقعات ویڈیو رپورٹس کی صورت میں ہزاروں ناظرین تک پہنچ رہے ہیں۔
آزمائشیں
پاکستان میں مقامی سطح پر آزاد صحافت کرنا آسان نہیں۔ جب کوئی رپورٹر بااثر افراد کی زیادتیوں، سرکاری اداروں کی غفلت اور ناجائز قبضوں جیسے معاملات کو سامنے لاتا ہے تو اسے خاموش کرانے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ رانا اکرام اللہ کو بھی اپنے پندرہ سالہ سفر میں ایسے کئی مراحل سے گزرنا پڑا۔
انہیں براہِ راست دھمکیاں ملیں، دباؤ ڈالا گیا، خبر روکنے کے لیے ترغیبات دی گئیں اور بعض اوقات سماجی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ خاندان اور ساتھیوں کی فکر فطری تھی، مگر انہوں نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا: خبر عوام کی امانت ہے اور امانت میں خیانت نہیں ہو سکتی۔
”جو خبر عوام کے مفاد میں ہو، وہ لکھی جائے گی — چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔ صحافی اگر ڈر گیا تو عوام کا سہارا کون بنے گا؟“
بااثر حلقوں کی جانب سے خبریں روکنے کے لیے دھمکیوں کا سامنا — مگر قلم رکا نہیں۔
خاموشی کے بدلے فائدے کی پیشکشیں ہوئیں، مگر انہوں نے اصولوں کا سودا نہیں کیا۔
تنہا کرنے اور بدنام کرنے کی کوششیں — مگر عوام کا اعتماد ان کے ساتھ رہا۔
اپنوں کی تشویش ہر مشکل لمحے میں ساتھ رہی، مگر ان کا حوصلہ بھی انہی اپنوں سے ملا۔
ہر آزمائش کے بعد سچ کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا۔
اصول
پندرہ برس کی صحافت میں رانا اکرام اللہ کی رہنمائی کرنے والے بنیادی اصول۔
خبر کی بنیاد صرف حقائق اور تصدیق شدہ معلومات پر — سنسنی یا مفروضے پر نہیں۔
کسی سیاسی جماعت، گروہ یا بااثر شخصیت کا ترجمان بننے کے بجائے صرف عوام کا نمائندہ۔
ہر خبر کا معیار ایک سوال: کیا اس سے عوام کو فائدہ پہنچے گا؟
جو لوگ اعتماد کرکے معلومات دیتے ہیں، ان کی شناخت اور تحفظ کو مقدم رکھنا۔
سخت سے سخت خبر بھی باوقار اور متوازن زبان میں — نفرت یا اشتعال کے بغیر۔
صرف مسائل نہیں، حل کی طرف بھی توجہ — اور اچھے کام کی حوصلہ افزائی۔
صحافتی توجہ
لالیاں شہر اور گردونواح کے عوام کے وہ معاملات جو ان کی رپورٹنگ کا مستقل موضوع رہے۔
پینے کے پانی کی قلت، نکاسیٔ آب اور صفائی کے مسائل
ٹوٹی سڑکیں، بند نالیاں اور ادھورے ترقیاتی کام
ہسپتالوں میں عملے، ادویات اور سہولیات کی کمی
سرکاری اسکولوں کی حالت اور تعلیمی مسائل
سرکاری دفاتر میں شہریوں کی مشکلات اور تاخیر
شہریوں کے تحفظ اور قانون کی عملداری کے معاملات
سرکاری و نجی زمینوں پر قبضوں کی نشاندہی
عام آدمی کی قوتِ خرید پر اثر انداز ہونے والے معاملات
کردار
گلی محلوں کے مسائل کو خبر بنا کر متعلقہ اداروں کی توجہ دلانا۔
شہریوں کی شکایات کو ذمہ دار حکام تک پہنچانے میں کردار۔
لالیاں پریس کلب کو ایک منظم اور عوام دوست پلیٹ فارم بنانے میں قیادت۔
ڈیلی سچ نیوز کے ذریعے مقامی خبر کو نئی نسل اور وسیع ناظرین تک پہنچانا۔
پیغام
میں نے صحافت کو کبھی پیشہ نہیں، ذمہ داری سمجھا ہے۔ پندرہ برس میں بہت کچھ دیکھا — دھمکیاں بھی، دباؤ بھی اور ایسے لمحے بھی جب خاموش رہنا آسان لگتا تھا۔ مگر ہر بار لالیاں کے ان لوگوں کے چہرے سامنے آ جاتے جو اپنی بات کہنے کے لیے میرے پاس آتے تھے۔ ان کا اعتماد میری سب سے بڑی طاقت ہے۔
میرا آپ سے وعدہ ہے کہ لالیاں پریس کلب اور ڈیلی سچ نیوز آپ کی آواز رہیں گے۔ اگر آپ کے پاس کوئی خبر ہے، کوئی مسئلہ ہے یا کوئی ایسا معاملہ جس پر توجہ دلانا ضروری ہو تو ہم سے رابطہ کریں۔ سچ کہنے سے نہ ہم پیچھے ہٹے ہیں، نہ ہٹیں گے۔
رابطہ
خبر، تجویز یا عوامی مسئلہ — براہِ راست رابطہ کریں۔
رانا اکرام اللہ کی قیادت میں لالیاں پریس کلب لالیاں سے پاکستان تک حقائق پر مبنی صحافت کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہمارے ساتھ جڑیں اور باخبر رہیں۔